شیطانی وسوسہ

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - خیالِ باطل، بدی کا خیال، فاسد خیال، شیطانی تحریک و ترغیب۔ "ربط آیات اور خلاصہ مضمون، پچھلی آیات میں شیطانی وسوسہ اور حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش اور اس کے نتیجہ میں جنت سے نکلنے اور زمین پر اترنے کا حکم مذکور تھا۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٣٩:١ )

اشتقاق

عربی سے مشتق اسم صفت 'شیطانی' کے ساتھ عربی ہی سے مشتق اسم مجرد 'وسوسہ' بطور موصوف ملنے سے مرکبِ توصیفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٩٣ء کو "بست سالہ عہد حکومت" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خیالِ باطل، بدی کا خیال، فاسد خیال، شیطانی تحریک و ترغیب۔ "ربط آیات اور خلاصہ مضمون، پچھلی آیات میں شیطانی وسوسہ اور حضرت آدم علیہ السلام کی لغزش اور اس کے نتیجہ میں جنت سے نکلنے اور زمین پر اترنے کا حکم مذکور تھا۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٣٩:١ )

جنس: مذکر